مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی واپسی کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے دوبارہ نافذ ہونے والی قراردادوں سے متعلق اپنی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 ستمبر 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی چھ قراردادیں، جن میں قراردادیں 1696، 1737، 1747، 1803، 1835 اور 1929 شامل ہیں، سنیپ بیک میکانزم کے تحت پابندیوں کی خودکار واپسی کا عمل مکمل ہونے کے بعد دوبارہ نافذ ہوگئیں۔
بیان کے مطابق فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ طویل عرصے سے جاری تعاون کو نظر انداز کرتے ہوئے اس عمل کا آغاز اس دعوے کی بنیاد پر کیا کہ تہران جوہری معاہدے کے تحت اپنی جوہری ذمہ داریوں کی مسلسل اور نمایاں خلاف ورزی کر رہا ہے۔
دستخط کنندہ ممالک نے دعوی کیا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق وہ ایران کو ایسی اشیا، مواد، آلات، سامان اور ٹیکنالوجی کی فراہمی، فروخت یا منتقلی روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے جو جوہری سرگرمیوں یا جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے نظام کی تیاری میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے ایران کو یا ایران سے متعلق اسلحے اور متعلقہ آلات کی فراہمی، فروخت یا منتقلی پر عائد پابندیوں کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
مشترکہ بیان میں دعوی کیا گیا کہ دستخط کنندہ ممالک ایران کی مبینہ جوہری توسیعی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے مناسب قانونی اختیارات اور داخلی صلاحیتیں برقرار رکھنے کے پابند ہیں۔
مذکورہ ممالک نے صہیونی رژیم کی جوہری سرگرمیوں اور اس کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کا ذکر کیے بغیر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں، ان کی ترسیل کے نظام، جن میں ڈرونز بھی شامل ہیں، اور اقوام متحدہ کی دوبارہ نافذ ہونے والی اسلحہ پابندیوں کے دائرے میں آنے والی دیگر اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ منتقلی روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیان میں دستخط کنندہ ممالک نے ایران کی مبینہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات کے فوری تبادلے، ضرورت پڑنے پر اپنے داخلی قوانین پر نظرثانی اور ایران سے متعلق مبینہ سرگرمیوں سے وابستہ اشیا کی منتقلی روکنے اور ان کی روک تھام کی کوششوں میں مدد کے لیے مخصوص اقدامات پر بھی زور دیا۔
بیان میں اسرائیل سمیت دستخط کنندہ ممالک نے سلامتی کونسل کی قراردادوں سے متعلق ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی کوششوں اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔ اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کی کارروائیوں سے متعلق اقدامات کی بھی حمایت کی گئی۔
بیان میں اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مذکورہ قراردادوں پر عمل درآمد کریں۔
دستخط کنندہ ممالک نے ایران کی پرامن جوہری سرگرمیوں کا ذکر کیے بغیر تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کی تشویش کا دعوی کیا اور کہا کہ وہ ایران کی جانب سے جوہری پروگرام یا ان بیلسٹک میزائل پروگراموں کی مبینہ بحالی کی کوششوں سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششوں میں رابطہ جاری رکھیں گے جنہیں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
ان ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی طرف واپس آئے، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور جوہری اشاعت سے متعلق عالمی برادری کے خدشات کا جواب دے۔
بیان جاری کرنے والے ممالک میں البانیہ، ارجنٹینا، آسٹریلیا، آسٹریا، بحرین، بیلیز، بوسنیا و ہرزیگووینا، بلغاریہ، کینیڈا، کولمبیا، کروشیا، قبرص، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، ڈومینیکن ریپبلک، ایسٹونیا، مائیکرونیشیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، ہنگری، آئس لینڈ، آئرلینڈ، اسرائیل، اٹلی، جاپان، لٹویا، لائبیریا، لیختن اسٹائن، لتھوانیا، مارشل جزائر، مالدووا، مونٹی نیگرو، مراکش، نیدرلینڈز اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ